واپس نہ چلا جائے وہ
کنیز منظور
غزلیات
مشاہدات: 118
پسند: 0
کون جانے کہ کب آ جائے وہ
جانے کس روپ میں جلوہ دکھائے وہ
۔۔۔
دیدہ و دل وا چشم بہ سرِ راہ رکھو
جب بھی چاہے تب آ جائے وہ
۔۔۔
دیکھنا آنکھ نہ لگ جائے کہیں
ایسا نہ ہو کہ آ کے چلا جائے وہ
۔۔۔
اپنے دریا دل کو کچھ بھی نہ سمجھو
تیرے کوزٖہؑ دل میں بھلا کیسے سمائے وہ
۔۔۔
جان و دل متاعِ حیات سب اس کے ہیں
جب بھی چاہے ہمیں آزمائے وہ
۔۔۔
موندی نہیں آنکھیں کبھی اس ڈر سے کنیزؔ
سوتا دیکھ کر واپس نہ چلا جائے وہ
واپس جائیں