اے مالکِ بے نیاز
دریچے ذہن کے خود ہی وا ہوتے ہیں تیرے نام پر
جبیں خود بخود جھکتی ہے تیرے نام پر
۔۔۔
ادنیٰ مخلوق پر تو نے جو احساں کیے
شکر تیرا ادا کیا جائے کس کس انعام پر
۔۔۔
یہ عقل وخرد جو بخشی ہے اس خاکی کو تو نے
دل و جاں کیوں نہ ہو فدا سوچیں تو تیرے نام پر
۔۔۔
تو بخشتے نہیں تھکتا اور ہم گناہ کرتے ہوئے
شرم سے سر نہ اٹھا ئیں سوچیں جو اپنے کام پر
۔۔۔
تیرے چاند سورج کی روشنی نیک و بد سب کے لیے ہے
اوروں کو معاف کیوں نہیں کرتے ہم فقط تیرے نام پر
۔۔۔
تو واحد ہے اور ہم تیرا پرتو ہو کر جدا جدا کیوں ہیں
ہم سب کو یک دل کر دے اے مالک اپنے نام پر