وہ شخص بھی کیا سادہ تھا
کنیز منظور
غزلیات
مشاہدات: 135
پسند: 0
وہ شخص بھی کیا سادہ تھا
مجھے بھولنے کا ارادہ تھا
بازی جیتتے اس سے کیسے
شاہ بھی اور اسی کا پیادہ تھا
بات نظروں کی وہ نہیں جانیں
بات جب سننے کا نہ ارادہ تھا
خود نہ سمجھے بتا کےکیا کرتے
بھرم انا کا نہ اتنا سادہ تھا
نہیں جتائے ہے چہرہ شناس بہت
یقین اس کو خود پہ زیادہ تھا
رہے شاد وہ چھپا کے ہم سے
خوشی اس کی مرا ارادہ تھا
تہی دامن تھے ہم ہمیشہ سے
اس کا بھی کب پانے کا ارادہ تھا
نہیں ہوتی اس کی سرحد کوئ
اصول محبت کا بہت سادہ تھا
واپس جائیں