اس کی مٹی میں الفت رچی رہے
سچ کی خوشبو سدا بسی ہی رہے
ہر دعا و وفا ہو جو نام_ وطن
بنی اس کی سدا دلکشی رہے
نفرت خودغرضی و طمع دور ہو
پھولوں سے پیار کے یہ سجی رہے
چھٹ جائیں گے غربت کے بادل اگر
لگن اپنی جو اس کی ترقی رہے
دھرتی ماں کی یہ رنگیں ردا
گل شجر سے سدا سجی ہی رہے
دلشاد رہے مرا ہر ہم وطن
مہر تری سبھی پہ بنی رہے