دل کی بستی میں چلتا نہیں سکہ اس کا
کنیز منظور
غزلیات
مشاہدات: 133
پسند: 0
دل کی بستی میں چلتا نہیں سکہ اس کا
دھڑکن سادل میں سمائے نہ چہرہ جس کا
بسے جو روح میں وہ کیسے بھولے
مسلسل سانس پہ ہو پہرہ جس کا
کشش لہجے کی کر گئی پتھر ورنہ
نہیں چھوڑنے والے تھے مہرہ اس کا
سراپا جو بس جائے آنکھوں میں
بچھڑنا لگتا ہے کرب گہرا اس کا
دکھ کسی کےکب آتے ہیں نظر
دل ہو احساس سے بے بہرہ جس کا
واپس جائیں