کشش زمیں کی مجھے بلاتی ہے
ہریالی کھول بانہیں مجھے بلاتی ہے
کہ چھو لوں نرم شبنمی پتیوں کو
ہولے ہولے چلوں ٹھنڈے نرم سبزے پہ
بال کھولے اک پنچھی کی طرح
اڑتی چلی جاوں ہوا کی طرح
شان سے کھڑے سرسبز شاداب پیڑ
کرتے ہیں جو روح و جاں کو سیر
کہیں زمیں سے پھوٹتی ننھی کونپلیں
دیکھوں جی بھر بھر کے انہیں
ان کے رنگ، بناوٹ ان کی نرمی کو
بھر لوں روح میں ان کی شگفتگی کو
میلو ں پھیلے سبزے میں چمکتے پانی کو
بادلوں سے گھرے سرمئ آسماں کو
پھلوں پھولوں سے لدے درختوں کو
خدا شاداب،معطر رکھے یونہی دھرتی کو
دے توفیق ہمیں اسے بچانے اسے سجانے کو
آنے والے محظوظ ہو سکیں ان سے
محفوظ کریں حسیں نظارےانہیں دکھانے کو