اشکوں کے ستارے تو ٹوٹتے ہی رہتے ہیں اکثر
آسماں والے بھی یہ نظارے دیکھتے ہی رہتے ہیں اکثر
شیشہ دل جو ٹوٹے اک طوفان سا اٹھے
بلا آہٹ یہ کر چیاں جڑیں کیسے ہم سوچتے رہتے ہیں اکثر
کھڑکی کوئی کھلی رکھیے محبتوں کی سمت
بند قبروں میں تو مردے ہی رہتے ہیں اکثر
درد محسوس کرنا جو سیکھ لیں اوروں کے پھر نہ دیں دکھ کسی کو
کاش وہ سب کر بھی لیں خود جو ہم کہتے رہتے ہیں اکثر
بھلا کے تلخیاں اے کاش ہم دور چلے جائیں ان سے
کر کے باتیں پھولوں کی خار کیوں ہوتے رہتے ہیں اکثر
تاریخ یہ رقم کس طرح کی ، کر رہے ہیں اپنی نسلوں کے لیے
خود غرضی و نفرت کے جال ہم اپنے گردہی بنتے رہتے ہیں اکثر