ان سے مل کے جو بات کی ہوتی
کنیز منظور
غزلیات
مشاہدات: 143
پسند: 0
(محترمہ پروفیسر وکٹوریہ امرت پیٹرک صاحبہ کی نذر)
ان سے مل کے جو بات کی ہوتی
بات دل کی جو ساتھ کی ہوتی
دیکھ لیتی چمک ان آنکھوں کی
روشن اپنی بھی ذات کی ہوتی
جن کا لکھا ہو حرف تقلیدی
ان کی ہستی لغات کی ہوتی
عاجزی کا وہ ایک پیکر تھی
چھو کے معمور ذات کی ہوتی
ذات اپنی میں ایک مکتب تھی
کاش بیعت جو ہاتھ کی ہوتی
لوگ ایسے ہیں کم جنم لیتے
نذر جن کو حیات کی ہوتی
تو جو ملتی کنیز ! امرت سے
تیری ہستی کتاب کی ہوتی
واپس جائیں