میں جب بھی سمندر دیکھتی ہوں اور جب جب کبھی
شفاف پانیوں میں تیرتی ہوئی مچھلیاں بھی
تو دل میرا بے اختیار چاہتا ہے
کہ میرے ہاتھ میں اک ڈور ہو
اور میں بیٹھی رہوں کنارے پر
حد نظر تک پھیلی ہوئی نرم ریت کے کنارے پر
اور پھر اچانک ہی اچانک بالکل
اک چھوٹی سی سنہری مچھلی آجائے ہاتھ میرے
جو بس پھر نہ جائے کہیں
اور عمر بھر کھیلتی رہے ساتھ میرے