یہ گناہ کی سزا ہے کہ ثواب کا ثمر
یا ہے میری دعاؤں کے جواب کا ثمر
۔۔۔
تیری جانب تو نظر اٹھانے کے بھی قابل نہیں
یہ ہے سب تیری عنایتوں کے حساب کا ثمر
۔۔۔
مدتوں جو بہتا رہا میری آنکھوں سے
لگتا ہے ملا ہے اسی آب کا ثمر
۔۔۔
ہم اس عنایت کے قابل کہاں تھے
ملا ہے کنیز کیا لاجواب ثمر