نہیں جو ممکن اسے سوچیں کیسے
ہوا کو پکڑیں یا اسے روکیں کیسے
۔۔۔
عقل ہی اپنی جب ناقص ٹھہری
جو ہے کامل اسے سوچیں کیسے
۔۔۔
بلانا بھی جسے نہیں بس میں اپنے
کہاں سے لائیں اور اسے روکیں کیسے
۔۔۔
ابھی تو ابتدا ہے ابھی سے یہ بے تابی
ابھی دیکھنا انتظار کی نوکیں چبھیں گی کیسے