ہو رہی ہے ہر طرف کرونا ، کرونا
ہر کسی کو خوف ہے تو بس کرونا
۔۔۔
ہر قوم و مذہب ، چھوٹے بڑے ہیں کیوں پریشان سب
کیا ہو گیا ان اشرف المخلوقات سے بڑا کرونا؟
۔۔۔
موت کا ایک دن مقرر ہے، جو رات قبر میں ہے وہ ہے
لازم ہے سب احتیاطیں وہ کرو، بس ڈراؤ اور ڈرونا
۔۔۔
ساتھ ہاتھوں کے دلوں اور ذہنوں کو بھی صاف کر لو
لالچ و طمع نہیں خوف اس پاک ذات کا کرو، نا
۔۔۔
وہ قادر بھی ہے ، رازق اور رحیم بھی ہے
آزما کے دیکھو دل سچے سے بس رجوع کرونا
۔۔۔
ہو جائے گی گل و گلزار یہ تصویر کا ئنات کنیزؔ
رنگ ایمانداری اور سچائی کے تو بھرونا