خود کو تیرے ستم کا جو عادی بنا دیا
دیوانے تھے جو تم کو خدا سا بنا دیا
۔۔۔
اب تو ہیں تیرے رحم و کرم کے ہی منتظر
جب چاہا مٹا دیا جب چاہا بنا دیا چاہا
۔۔۔
جدھر کو آپ نے ہم چل دیے ادھر
ہم نے تمہاری رہگزر کو منزل بنا دیا
۔۔۔
تیری بے رخی کو ہم کریدتے رہے مگر
اس خول میں تھا کس نے تیرا دل چھپا دیا
۔۔۔
منزل کا ڈھونڈنا کچھ ایسا آسان تو نہ تھا
پر خار راہ دیکھی تو دل کو بچھا دیا
۔۔۔
کب تک بھنور کے ڈر سے گزاریں یہ زندگی
یہ سوچ کر طوفان کو نیا بنا دیا
۔۔۔
تسکین دل و جگر کو ہی مل جائے اے کنیزؔ
ویران چشم نم سے ہی دریا بہا دیا