غم بھی ایک تماشہ ہے اور مجھ کو خوشی بھی راس نہیں
یادیں ہیں یہ تیری اب سینے میں یہ سانس نہیں
۔۔۔
یادیں ہی تو سرمایہ ہیں بس اب میرے جیون کا
سب کچھ میں نے کھویا اپنا کچھ بھی میرے پاس نہیں
۔۔۔
پیمانے بھی دل کے اکثر ٹوٹ ہی جایا کرتے ہیں
کیوں کہ ان کا چھلکنا جو ہم کو راس نہیں
۔۔۔
کیوں اتنا مدہوش رہے تم کچھ تو اپنا ہوش کرو
وہ کیا اس کا سایہ بھی جب اے دل تیرے پاس نہیں
۔۔۔
کبھی وہ برسے ساون کے بادل کی طرح
جس پتھر سے دل کو ذرا سی آس نہیں