چاندنی رات جب سنورنے لگی
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 49
پسند: 1
چاندنی رات جب سنورنے لگی
روشنی خواب میں اترنے لگی
پہلی بارش کے خط کو پاتے ہی
خوشبو پھولوں سے بات کرنے لگی
ریت پر چاندنی کا نقش کھِلا
کشتی ساحل پہ جب ٹھہرنے لگی
کاسنی شام کے لبادے میں
اک پری مجھ سے پھر لپٹنے لگی
میرے اشعار کی یہ شہرت بھی
اس کی ہر سانس میں اترنے لگی
چاند جب خامشی کا ساتھی بنا
نیند خوابوں کو گود لینے لگی
پہلا حرفِ زباں پہ آتے ہی
داستاں دل میں خود نکھرنے لگی
یاد کی خامشی جو چھائی تھی
دھیمے دھیمے سے گنگنانے لگی
وہ تو چھو کر خیال کی دنیا
میرے جذبوں کو رنگ دینے لگی
شاعری کے جہاں میں اے جاں اب
تیری آواز بھی ابھرنے لگی
واپس جائیں