میں سفر میں رہا راستے بھی ملے
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 32
پسند: 1
میں سفر میں رہا راستے بھی ملے
ہر قدم پر مگر سانچے بھی ملے
جن کو دیکھا نہ تھا جن کو سوچا نہ تھا
راہِ منزل پہ وہ حادثے بھی ملے
میں سمجھتا تھا میں بے کرانی میں ہوں
جا بجا چار سو دائرے بھی ملے
روشنی، آگہی سے مزین جو تھے
محوِ گریہ وہی قافلے بھی ملے
گردشِ روز و شب سے جو ڈرتے رہے
وہ قدم راستے میں رکے بھی ملے
ایک کربِ مسلسل کی دولت لیے
قربتیں بھی رہیں فاصلے بھی ملے
جان میرا سفر رائیگاں تو نہیں
دشت سینچا تو یہ آبلے بھی ملے
واپس جائیں