چاند کو جگانا ہے
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 46
پسند: 0
چاند کو جگانا ہے
رات کو چھپانا ہے
خاموشی کے لمحوں میں
کوئی گیت گانا ہے
رات کے سرابوں کو
پانیوں میں لانا ہے
آج اس کے سینے میں
دل نیا بنانا ہے
وقت کے دریچے میں
جھانک کر بھی آنا ہے
سچ اگر ہے آئینہ
آنکھ سے دکھانا ہے
برف سے بدن میں اب
آگ کو لگانا ہے
موت کے سوا سب کچھ
زندگی بنانا ہے
راکھ ہو چکے چمن
پھر بھی گل کھلانا ہے
زخم سارے سی کے اب
مسکراتے جانا ہے
اپنی اس زمیں کو اب
چاند سا بنانا ہے
ایک دن ستاروں تک
دھوپ کو سجانا ہے
یاد کے شجر پہ جاں
پھول پھر کھلانا ہے
واپس جائیں