دل یہ جلے اور جاگے غم
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 32
پسند: 0
دل یہ جلے اور جاگے غم
رات ڈھلے اور جاگے غم
نکہت روٹھی بیٹھی ہے
پھول کھلے اور جاگے غم
اِس تہذیب کی راہوں میں
سانس چلے اور جاگے غم
ہجر کی تنہا راتوں میں
دیپ جلے اور جاگے غم
سپنوں کی سرگوشی میں
خواب پلے اور جاگے غم
تیرے ہجر میں جان نے اپنے
ہاتھ ملے اور جاگے غم
واپس جائیں