جھلمل کرتے آنسو اپنی
آنکھوں کی قندیل میں لے کر
کچھ گھبرائی، کچھ شرمائی
رات وہ میرے خواب میں آئی
کرنے لگی تجدیدِ محبت۔ کہنے لگی اے جانِ میں تم بن
اک پل بھی نہیں رہ سکتی ہوں
سچ کہتی ہوں۔ مر جاؤں گی
کتنا پاگل تھا میں یارو
جسے کوئی
سپنے میں اک سپنا دیکھے
آئینے میں عکس سے کھیلے
یونہی میں بھی دشتِ وفا میں
قدم قدم پر بھٹک رہا تھا
یادوں کے بستر پر میری۔ آنکھ کھلی تو میرے سرہانے
ایک خلش، اور اک الجھن تھی
باقی جو کچھ تھا سپنا تھا
اور سپنا تو ٹوٹ چکا تھا