کئی بدصورت چہروں کو
میں نے بھی تو دیکھا ہے
نیلے نیلے گگن کے سائے
عکس کے پیچھے عکس چھپائے
دیکھا میں نے اک لڑکی کو
اُس کے تن پر نام کے کپڑے
کچرے میں اک بچہ رکھ کے
لوٹ گئی وہ دھیرے دھیرے
میں نے جب یہ سب کچھ دیکھا
حیرانی کے اس عالم میں
جلنے لگا تھا ذہن یہ میرا
ایک سوال نے رفتہ رفتہ
میرا ذہن ہی نوچ لیا تھا
یہ غربت کی ماری ہے
یا
پھر اس سے بھول ہوئی ہے؟