قصہ پارینہ مجھ کو اب تو دُہرانا نہیں
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 19
پسند: 0
قصہ پارینہ مجھ کو اب تو دُہرانا نہیں
کپکپاتے خواب لے کر اُس گلی جانا نہیں
میں تو دشتِ زندگی لے تیرے در پہ آ گیا
تیرا میرا ویسے تو کوئی بھی یارانہ نہیں
دفن ہے دیوارِ دل میں ہر سرودِ آرزو
سازِ دل پہ گیت کوئی اب مجھے گانا نہیں
ایک رشتہ جو تری یادوں کے تاروں نے بُنا
گو یہ انجانا ہے پر لگتا تو انجانا نہیں
عہدِ گم گشتہ کی تلخی ہے جو رگ رگ میں رواں
مجھ سے کہتی ہے فریبِ آرزو کھانا نہیں
جانِ کوئے یار میں پھر اجنبی میں ہو گیا
اُس نے نظریں پھیر لیں جب مجھ کو پہچانا نہیں
واپس جائیں