اک ہنر ہم کو شکیبائی کا وہ سکھلا گیا
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 18
پسند: 0
اک ہنر ہم کو شکیبائی کا وہ سکھلا گیا
رفتہ رفتہ بے قراری کو سکوں سا آ گیا
میرا مجرم معتبر بے مری سنتا ہے کہاں
کم نگاہی کا گلہ مجھ کو سزا دلوا گیا
بد گمانی کے غباروں سے اُٹی ہے زندگی
پھر بھروسہ مجھ پہ کر کے اک کرم فرما گیا
میں حدیثِ شوق بھی کیسے سناتا یار کو
وہ تو لوحِ دل سے اپنے نقش ہی لیتا گیا
سونپ کر ذوقِ ضیا اہلِ جنوں کے ہاتھ میں
میں ہوا کی گود میں رکھ کر دیا اک آ گیا
واپس جائیں