کوئی جب بھی بدلتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 19
پسند: 1
کوئی جب بھی بدلتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
نئے سانچے میں ڈھلتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
یہ دستورِ زمانہ ہے اسے اب کے بدلنا ہے
کوئی جب چال چلتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
وہ میرا نام لے کر پھر کوئی اک نام لیتا ہے
یہ میرا دل مچلتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
تیری یہ چپ ترا لہجہ مجھے اکثر رُلاتا ہے
مرا دل جب سلگتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
عدو کا ساتھ دے کر بھی مجھے وہ اپنا کہتا ہے
وہ دہری چال چلتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
لہو کا دائمی موسم مجھے بے حس بناتا ہے
بھرا گلشن سلگتا ہے تو میں خاموش رہتا ہوں
واپس جائیں