اک تصور کی حکمرانی میں
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 50
پسند: 1
اک تصور کی حکمرانی میں
خواب بہتا رہا روانی میں
آج اُس سانولی حسینہ نے
اک جلایا چراغ پانی میں
وہ جو کردار گم شدہ تھا کہیں
لوٹ آیا ہے پھر کہانی میں
آپ کی عادتوں سے ظاہر ہے
آپ کیسے تھے نوجوانی میں
اُس کے چہرے کا عکس پاتے ہیں
آئینے ڈوب گے حیرانی میں
کچھ ستارے زمیں پہ اترے ہیں
اُس کی آنکھوں کی ترجمانی میں
دھوپ بارش ہوا شفق سب کچھ
معنی رکھتے ہیں زندگانی میں
زمین دریا فلک ہوا خوشبو
مسکراتے ہیں شادمانی میں
چاندنی رات جب سمٹتی ہے
چاند ڈھلتا ہے بے کرانی میں
دل کے ویران گوشے روشن ہیں
کچھ امیدوں کی شادمانی میں
واپس جائیں