فریبِ یار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 34
پسند: 1
فریبِ یار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
تمہارے پیار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
ابھی ہے عقل لب بستہ و حیراں سامنے جن کے
انہی افکار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
زمانہ جان جائے گا تو گہرائی بھی پالے گا
مرے اشعار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
بہت مدھم بہت ہی ملگجے آثار ہیں لیکن
ہر اک کردار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
یہ مجھ پہ اک عنایت ہے کہ حد درجہ شکایت ہے
نگاہِ یار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
زمانے سے لیا ہے کیا زمانے کو دیا ہے کیا
ترے معیار کی اک دن حقیقت کھل ہی جائے گی
واپس جائیں