ریگ زارِ زندگی میں امتحان آتے گئے
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 21
پسند: 0
ریگ زارِ زندگی میں امتحان آتے گئے
ہمرکابی میں مگر کچھ مہرباں آتے گئے
میں نے لمحوں کی طنابوں کو جو کھینچا تھا کبھی
نقش بن کر سامنے وہ سب نشاں آتے گئے
اپنے لہجے کے غلافوں میں چھپالوں کس طرح
ساتھ یہ جو حسرتوں کے کارواں آتے گئے
پا بریدہ خواہشوں کے آبلے جلتے رہے
پیچھے پیچھے ان کے بھی روشن نشاں آتے گئے
بس زباں کھولی تھی میں نے حق کی اندھی راہ پر
رفتہ رفتہ اور بھی کچھ ہم زباں آتے گئے
میرے رازوں کو عیاں کرنے میں وہ آگے رہے
یہ بتانے مجھ کو میرے رازداں آتے گئے
شورشِ گیتی نے مجھ کو جانِ توڑا ہی نہیں
محفلِ تخیل میں کیا کیا گماں آتے گئے
واپس جائیں