آنکھ میں نمی ہے کیوں
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 29
پسند: 0
آنکھ میں نمی ہے کیوں
تو بھی اجنبی ہے کیوں
فاصلہ ہے درمیاں
ایسی زندگی ہے کیوں
سورجوں کا دیس ہے
پھر بھی تیرگی ہے کیوں
جو ابھی نہیں کہا
تو وہ سن رہی ہے کیوں
اس کے انتظار میں
نبض یہ تھمی ہے کیوں
لگ رہا ہے خواب ہے
روبرو پری ہے کیوں
طے ہے پھر ملیں گے پر
دید آخری ہے کیوں
گو خزاں کا دور ہے
شاخ اک ہری ہے کیوں
مہ جبیں تو ہے مگر
اتنی نک چڑھی ہے کیوں
بارشوں میں بھیک کے
لگتی پھلجڑی ہے کیوں
مجھ کو تو بتا ذرا
موم کی بنی ہے کیوں
شہر ناسپاس میں
پھر صدا سنی ہے کیوں
اس کے شہر کی ہوا
جان سر پھری ہے کیوں
واپس جائیں