ہم سخن ہم نوا ہم زباں مل گیا
وکٹر جان
غزلیات
مشاہدات: 26
پسند: 1
ہم سخن ہم نوا ہم زباں مل گیا
اس جہاں میں نیا اک جہاں مل گیا
جس کی قسمت میں بادِ صبا ہی نہیں
وہ پنپتا ہوا گلستاں مل گیا
لوحِ دل پہ لکھوں یا کہوں دار پر
اس وفا میں جو سود و زیاں مل گیا
میں نے سچ کی ترازو کو تھامے رکھا
جھوٹ والوں کو رتبہ کہاں مل گیا
کامیابی ملی جب تو ایسا ہوا
حاسدوں سے بھرا کارواں مل گیا
وہ چلا ہی گیا مڑ کے دیکھا نہیں
مجھ کو یادوں سے اٹھتا دھواں مل گیا
زہر تھا تو میں اس سے مرا کیوں نہیں
عشق مثلِ لہو جو رواں مل گیا
گر بتانے کے قابل وہ تھا ہی نہیں
جان کو جو کبھی نکتہ داں مل گیا
واپس جائیں