ایک دن بتا ہی دو
۔۔۔
تم اکثر خامشی سے گفتگو کرتے ہوئے
کچھ سوچتے ہو جب
تو میں اپنی سماعت کو
تمہارے لفظوں کی حدت سے ہی محسوس کرتی ہوں
یہ جو برسوں سے تم مجھکو
محبت کے معانی رات دن سمجھا رہے ہو
محبت کا ہر اک رنگ کینوس پر عکس کرتے ہو
فضا میں رقص کرتے ہو
چلو پھر آج تم اک بار سارا فلسفہ
ظالم محبت کا بتا ہی دو
میں کیسی لگتی ہوں
کسی دن جی کرتا ہے
میں خود سے ملوں
اپنے کمرے میں بیٹھوں
اپنے آپ کو اپنے آئینے میں دیکھوں
سامنے الماری میں رکھی کتابوں سے باتیں کروں
پرانی تصویریں اور ڈائریاں پڑھوں
اور سامنے گلدان میں لگے پھولوں سے پوچھوں
میں کیسی لگتی ہوں