اُسکو لکھا پہلا خط
۔۔۔
سارا سارا دن تم سے باتیں کر کے بھی
کچھ باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں
کیا کرؤں
تم سامنے ہو تو بہت سی باتیں
جیسے گونگی ہو جاتی ہیں
سوچا ہے کہ وہ ساری باتیں
تم کو خط میں لکھ دیتی ہوں
لیکن تم پھر آنکھوں کی دہلیز پہ تنہا ایستادہ
اور میں
پھر وہ باتیں لکھنا بھول گئی