جو یاد آئی ہے اُس شجر کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدل گیا ہے مضافات کا حسین موسم
خزاں کے پتوں کو مٹی نے اپنے دامن میں
چھپا لیا ہے کہ آمد بہار کی ہے یہاں
ہر اک شجر ہے جواں
بدل چکا ہے سماں
عجیب بات ہے کہ آج موسم گُل میں
جو یاد آئی ہے تو اُس شجر کی جس نے مجھے
خزاں کی رُت میں بھی پیہم جوان رکھا ہے
جو یاد آئی ہے تو
ایک سایہ دار جگہ
جہاں پہ ہم نے گلابوں کے بیج بوئے تھے
جہاں پہ قہقہے بھی تھے تڑپ کے روئے تھے
خزاں کے پتے جنہیں اپنی نرم مٹی میں
زمیں نے جشن بہاراں کی روشنی کے لیئے
چھپا لیا تھا قبائے نمو میں ہر لمحہ
تو اب یہ معجزہ دیکھو کہ زرد پتوں سے
جنم لیا ہے بہاروں کی رُت میں پھولوں نے
یہ بارشوں کے جلو میں ہے پھوٹتی کونپل
یہ خوب خواب جزیروں میں خوشبوؤں کا نزول
گلاب چہروں میں رنگوں کا نور اترا ہے
یہ میں نے ریت پر جو تیرا نام لکھا ہے
قسم ہے تیری کہ یہ معجزہ بہار کا ہے
یہ ایک لمحہ ہے شاید کہ جو قرار کا ہے
قسم بہار کی خوشبو ہو میرے آنگن کی
قسم بہار کی تم چاندنی ہو ساون کی
قسم بہار کی پھولوں کے رنگ تم سے ہیں
قسم بہار کی یہ عکس سب تمہارے ہیں
چمن میں جتنے بھی ہیں رقص سب تمہارے ہیں