شب نے پھر راز کوئی دل کا سنایا ہم کو
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 121
پسند: 0
شب نے پھر راز کوئی دل کا سنایا ہم کو
چاند تو چپ تھا ستاروں نے بتایا ہم کو
شب کی تنہائی میں پھر درد بڑھا ہے دل کا
خود سکوتِ غم ہجراں نے رلایا ہم کو
شب کی گلیوں میں سرِ شام وہ آیا لیکن
صبح تک خواب کی مانند بھلایا ہم کو
واپس جائیں