وفا کے شعروں میں سرتاپا ہیں وفا کی باتیں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 168
پسند: 0
وفا کے شعروں میں سرتاپا ہیں وفا کی باتیں
صبا کی خوشبو کی نازکی کے حیا کی باتیں
قبول کر لے دعا وہ میری یہ التجا ہے
میں کتنے برسوں سے لکھ رہی ہوں دعا کی باتیں
مجھے وہ لکھنا ہے جس میں خوشبو شعور کی ہو
فنا کی باتوں سے کیا غرض لکھ بقا کی باتیں
یہ میرے شعروں میں جو بھی کچھ ہے عطا ہے اسکی
مرا نہیں ہے کمال یہ ہیں عطا کی باتیں
میں بے وفاؤں کا تذکرہ کر سکی نہیں ہوں
قسم ہے میں نے لکھی ہیں سب باوفا کی باتیں
واپس جائیں