کچھ دیر رکی، پھر وہ ہوا خوشبو ہوئی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 121
پسند: 0
کچھ دیر رکی، پھر وہ ہوا خوشبو ہوئی
گُل سے مجھکو آج عطا خوشبو ہوئی
چپ چاپ کھڑے تھے ساتھ مرےسارے شجر
لمحوں میں پھر سبزہ اُگا خوشبو ہوئی
ساحل پر بیٹھے تھےدونوں گُم سُم سے
ریت پہ ہم نے پیار لکھا خوشبو ہوئی
اس نے میلوں دور سے مجھکو چھو ہی لیا
بدن کا ہر دروازہ کھلا خوشبو ہوئی
زخموں پہ بھی رکھ دی اس نے اپنی نظر
درد جگر تک جا پہنچا، خوشبو ہوئی
ہم نے غزل خوشبو کی لکھی آج وفا
اور لفظوں کے ساتھ فنا، خوشبو ہوئی
واپس جائیں