خوشبو کی لطافت میں بسی بات کریں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 112
پسند: 0
خوشبو کی لطافت میں بسی بات کریں
چند لمحے کو ہی اب خودسے ملاقات کریں
سنگ ہم سرد ہوا کے یونہی چلتے جائیں
یادوں کے نگر میں کوئی خیرات کریں
اسکی خوشبو جو لگی روح کو چھونے میری
آج خوابوں کی حقیقت کو جو سوغات کریں
لب بستہ ہوئیں سانسیں وفا کچھ پل کو
احساس کے موسم میں ہی برسات کریں
واپس جائیں