ہنستی رہتی ہوں غم چھپا کر بھی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 116
پسند: 0
ہنستی رہتی ہوں غم چھپا کر بھی
دکھ سہے دل نے مسکرا کر بھی
زندگی خواب سا گزرتی ہے
وقت دیکھا ہے آزما کر بھی
اشک پلکوں پہ آ نہیں پاتے
دھوپ سہتی ہوں دل جلا کر بھی
دھوپ چھاؤں کی یہ کہانی ہے
مسکراتی ہوں دل لگا کر بھی
کیسے سمجھاؤں دل کے داغوں کو
اشک رکتے نہیں بہا کر بھی
عشق کا یہ سفر ہے لمبا بہت
زندگی مجھ سے اب وفا کر بھی
واپس جائیں