گُم ہوئی ہوں یہ کس کی چاہت میں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 105
پسند: 0
گُم ہوئی ہوں یہ کس کی چاہت میں
اب اضافہ ہوا ہے عزت میں
پیار خوشبو کی طرح پھیلتا ہے
ہاں ہے نقصان ایسی شہرت میں
اب کسی اور شے کی کیسی طلب
لگ گیا دل میرا محبت میں
اُس نے جاتے گلے لگایا تو
درد پنہاں تھا اُس کی رخصت میں
کیا وفا صرف اک تخلص ہے
یہ وفا تو ہے میری فطرت میں
واپس جائیں