اسکی باتوں میں ہمارا تذکرہ کیسا رہا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 113
پسند: 0
اسکی باتوں میں ہمارا تذکرہ کیسا رہا
عشق کا یہ پہلا پہلا مرحلہ کیسا رہا
رات دن تم اس طرح جو نام لکھتے ہو مرا
مجھ سے کہہ دو پیار کا یہ تجربہ کیسا رہا
تم نے ہونٹوں پر مرےمہر محبت ثبت کی
سچ کہو شاعر مرے یہ ذائقہ کیسا رہا
اک کشش میں ہیں مقید کب رہائی کی طلب
اپنی اپنی قسمتوں کا دائرہ کیسا رہا
تم نے بانہوں میں وفا کو کے لے پوچھا کس لیئے
جسم کی ان سرحدوں پر زلزلہ کیسا رہا
واپس جائیں