چاہت کی تپش یہ دل کو جلائے رکھتی ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 105
پسند: 0
چاہت کی تپش یہ دل کو جلائے رکھتی ہے
خاموشی سے ہر زخم چھپائے رکھتی ہے
یہ دل کی زمیں پر خواب اگاتی رہتی ہے
ہر پل کو اسے آنکھوں میں سجائے رکھتی ہے
چاہت میں سفر اک درد کا دریا ہوتا ہے
ہر مشکل کو ساحل سے ہٹائے رکھتی ہے
کبھی چاندنی راتوں میں یہ سمٹ کر آتی ہے
کبھی دھوپ میں سائے کو یہ بچائے رکھتی ہے
کہیں زخمِ وفا کو مرہم کی توفیق نہ ہو
چاہت امید کو دل میں جگائے رکھتی ہے
واپس جائیں