اسے کہنا کہ میں پھرسے منتظر ہوں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 112
پسند: 0
اسے کہنا کہ میں پھرسے منتظر ہوں
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
اسے کہنا کہ میں اب بھی وہی ہوں
تمہاری بات پر جو مرمٹی ہے
اسے کہنا کہ خوابوں کا دریچہ
ابھی تک تیری خوشبو سے سجا ہے
اسے کہنا کہ جاڑے کی ہوا میں
میرا دل تیری یادوں میں کھلا ہے
اسے کہنا کہ وفا کا ہر تعلق
تمہارے ساتھ ویسا ہی بنا ہے
واپس جائیں