شمع روشن ہے مگر دل کا دھواں باقی ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 112
پسند: 0
شمع روشن ہے مگر دل کا دھواں باقی ہے
کتنی خواہش تھی مگر خواب کہاں باقی ہے
رات تاریک ہے، امید کا سہرا تھامے
شمع جلتی ہے تو یہ دھیما سماں باقی ہے
چاندنی چھپ گئی ظلمت کے غلافوں میں کہیں
اور پروانے کے دل میں وہ گماں باقی ہے
اپنی قربانی پہ نازاں ہے یہ شعلۂ شوق
آخری بوند تلک شمع جواں باقی ہے
جیت جائیں گے اندھیروں سے، یہ خواہش ہےوفا
شمع بجھتی نہیں، روشن یہ جہاں باقی ہے
واپس جائیں