لمحہ رخصت کا ہے قریب آیا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 115
پسند: 0
لمحہ رخصت کا ہے قریب آیا
درد کا کیسا ہے نصیب پایا
لفظ سارے ہیں لب پہ ٹھہرے ہوئے
خامشی نے یہ کیا ہے دکھلایا
پھر وہ باتیں کرے ہے آنکھوں سے
ایسا ممکن نہیں ہے ہو پایا
منزلوں کا نشان غائب ہے
وہ سفر میں ہی مجھ کو چھوڑ آیا
رخصت ہونا تو رسمِ دنیا ہے
رخصتی میں فقط ہےغم پایا
میرا منظر ابھی ادھورا ہے
خواب میرا وفا ہے دھندلایا
واپس جائیں