قربت شب میں ہم جیسے ضم ہو گئے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 115
پسند: 0
قربت شب میں ہم جیسے ضم ہو گئے
چاندنی میں جو ہم میں سےہم ہو گئے
اپنی مرضی سے ہم تیرے در پر گئے
کون کہتا ہے ہم پر ستم ہو گئے
کی ہوا نے جو کانوں میں سرگوشیاں
سچ محبت کے پیمانے کم ہو گئے
اس نے مجھ پہ وفا کیسا جادو کیا
دل کے سارے ہرے زخم نم ہو گئے
واپس جائیں