ایک غزل میں مختلف اوزان کا تجربہ
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 102
پسند: 0
ایک غزل میں مختلف اوزان کا تجربہ
۔۔۔
دل کا حال بتائیں، تو شکایت ہوتی ہے
چپ رہیں، تو یہ حالت بھی روایت ہوتی ہے
وقت کے ساتھ سبھی خواب پرانے ہوتے ہیں
کیا کریں، یہ بھی زندگی کی حقیقت ہوتی ہے
روشنی کی تھی طلب میں جلے دل کے چراغ
شعلہ شعلہ جو جلے، وہی قیمت ہوتی ہے
کون سنتا ہے صدا، آج زمانے میں کسی کی یہاں
ہر ایک کے دل میں مسافت ہوتی ہے
ہم نے وفا سوچا تھا بستی کا سکوںپر
قریب جا کے سمجھا، یہ حکایت ہوتی ہے
واپس جائیں