یاد اسکی جو مرے دل کے قریب آتی ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 112
پسند: 0
یاد اسکی جو مرے دل کے قریب آتی ہے
یہ کہانی مجہے تنہائی میں بہلاتی ہے
چاند روشن ہے، مگر دل میں اندھیرا ہے بہت
یاد کی برکھا میں یہ رات بھی اتراتی ہے
راستے دور کے ہیں، ہم ہیں تھکن کے مارے
پھر بھی امید کی ہر شمع بھی جل جاتی ہے
فاصلے جسم کے ہوں یا ہوں دلوں کے صاحب
یہ حقیقت ہے کہ یہ پھولوں کو کُملاتی ہے
دور رہ کر بھی وفا خواب اُسی کا دل میں
یہ محبت کی حقیقت مجھے سمجھاتی ہیں
واپس جائیں