ترے نغمے دل میں اُترنے لگے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 105
پسند: 0
ترے نغمے دل میں اُترنے لگے
جگنو پلکوں پہ ہیں جھلملانے لگے
چاندنی رات میں تجھ سے سرگوشیاں
خواب منظر ہیں دل میں جو بسنے لگے
لمس کی تیرے حدت سکوں دے گئی
وقت کے دھاگے جیسے سلجھنے لگے
تیری خوشبو سے سانسیں مہکنے لگیں
پھول گلشن میں دل کے ہیں کھلنے لگے
اس کی قربت کا جادو ہے چلنے لگا
زخم دل کے وفا آج سلنے لگے
واپس جائیں