تجھ سے ملی تو موت کا خطرہ بھی ٹل گیا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 110
پسند: 0
تجھ سے ملی تو موت کا خطرہ بھی ٹل گیا
کیسے وفا پہ کہہ دے تیرا جادو چل گیا
جس لمحے میرے ہاتھ پہ تھا ہاتھ رکھ دیا
پہلو سے دل بس ایک ہی پَل میں نکل گیا
تبدیلیاں ہوئی ہیں مرے زائچے میں یوں
قسمت کا اب ستارہ بھی رستہ بدل گیا
جکڑا ہوا ہے ایسے تمہارے خیال نے
نہ جانے کس طرح سے میرا ہاتھ جل گیا
بانہوں نے اسکی مجھ پہ وفا جادو کر دیا
میرا وجود جس طرح دریا نگل گیا
واپس جائیں