میں سوچ کے تیرا چہرہ تراش لیتی ہوں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 113
پسند: 0
میں سوچ کے تیرا چہرہ تراش لیتی ہوں
بس ایک بات سے قصہ تراش لیتی ہوں
لرزتی انگلیوں سے میں سفید کاغذ پر
کمال یہ ہے کہ دریا تراش لیتی ہوں
اُس ایک شخص نے دہے محبت ایسی مجھے
میں دھوپ اوڑھ کے سایہ تراش لیتی ہوں
مرے وجود میں چند روز ہی میں اُترا وہ
اس اعتماد پہ دنیا تراش لیتی ہوں
مجہے وفا ہے خدا کی طرح سے اُس پہ یقیں
یقیں کی حد ہے کہ رستہ تراش لیتی ہوں
واپس جائیں