بکھرے بکھرے بال بھی اچھے لگتے ہیں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 113
پسند: 0
بکھرے بکھرے بال بھی اچھے لگتے ہیں
کچھ انجانے چہرے اپنے لگتے ہیں
کچھ لوگوں میں عادت یہ بھی دیکھی ہے
چہروں کے اوپر بھی چہرے لگتے ہیں
میں نے اس کو غور سے دیکھا کتنی بار
اس نے جب یہ پوچھا کیسے لگتے ہیں
اُس سے پیار کے رستے دیکھ کے لگتا ہے
دیکھے دیکھے سارے رستے لگتے ہیں
یوں تو وفا جی ہر اک شے یاں مہنگی ہے
سچ تو یہ ہے دکھ ہی سستے لگتے ہیں
واپس جائیں