پیار میں کیا ہے یار کا مطلب
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 115
پسند: 0
پیار میں کیا ہے یار کا مطلب
جیت میں ہی ہے ہار کا مطلب
جام پھر ہاتھ میں پکڑ لینا
پہلے سمجھو خمار کا مطلب
اے مرے ہمنوا مرے ہمدم
تو نے سکھلایا اعتبار کا مطلب
اس سخن گو کی نرم باتوں سے
سیکھا ہے اختصار کا مطلب
اُس نے جب مسکرا کے دیکھامجھے
آج سمجھی میں پیار کا مطلب
اب سمجھ آ گیا ہے مجھکو وفا
اصل میں انتظار کا مطلب
واپس جائیں